Torah Holy Book In Urdu !!link!! -

لفظ "تورات" عبرانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "تعلیم"، "ہدایت" یا "شریعت" ہے۔ اسلامی عقائد کے مطابق، یہ ان چار بڑی الہامی کتابوں میں سے پہلی کتاب ہے جن کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے۔ Bible in My Language تورات کی ساخت (پانچ کتابیں)

The Torah consists of five books: Genesis, Exodus, Leviticus, Numbers, and Deuteronomy. These books contain the fundamental teachings of the Jewish faith, including the creation story, the early history of the Israelites, and the giving of the Ten Commandments. The Torah is written in Hebrew and contains 613 commandments, known as mitzvot, which are considered binding on Jews.

Despite the significance of the Torah in Urdu, there are several challenges and controversies surrounding its translation and interpretation. Some of the challenges include:

The Quran mentions the Tawrat 18 times by name. Allah reminds the Jews and Christians (People of the Book – Ahl-e-Kitab) to uphold the original Tawrat and Injeel (Gospel). However, the Quran also states that some people distorted the words of the Torah from their proper places.

صدیوں پہلے جب بائبل سوسائٹیز نے برصغیر کا رخ کیا، تو انہوں نے مقامی زبانوں میں بائبل کے تراجم کا آغاز کیا۔ چونکہ توریت بائبل (عہد نامہ قدیم) کا حصہ ہے، اس لیے نامور اسکالرز جیسے اور ہنری مارٹن نے عبرانی اور یونانی زبانوں سے براہِ راست اردو (جسے اس وقت ہندستانی کہا جاتا تھا) میں تراجم کیے۔ مسلم اسکالرز کی تحقیقی کاوشیں

اردو زبان میں تورات کے کئی مستند تراجم موجود ہیں: Tawrat Holy Book In Urdu Pdf Downloadbooksks - Facebook torah holy book in urdu

قرآن پاک بار بار فرماتا ہے کہ وہ اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یعنی جو حقیقت توریت میں تھی، قرآن نے اسے محفوظ کر لیا، اور جو تحریف ہو گئی، اسے درست کر دیا۔

بائبل سوسائٹی آف پاکستان اور انڈیا نے عہد نامہ قدیم (بشمول تورات) کے کئی آسان اردو تراجم شائع کیے ہیں۔ یہ تراجم عام طور پر کلیساؤں اور انٹرنیٹ پر پی ڈی ایف (PDF) کی صورت میں دستیاب ہیں۔

اس میں بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں چالیس سالہ سفر، ان کی مردم شماری (گنتی)، اور مختلف قبائل کی ترتیب کا ذکر ہے۔

By reading and studying the Torah in Urdu, individuals can gain a deeper understanding of Jewish scripture and traditions, promoting greater interfaith understanding and respect. The Torah is a holy book that continues to inspire and guide readers, offering insights into the Jewish faith and tradition. Its significance extends far beyond the Jewish faith, and its teachings are relevant to people of all faiths.

Contains the final speeches of Moses and a recap of the divine laws. Availability of Torah in Urdu Despite the significance of the Torah in Urdu,

موجودہ دور میں توراۃ بائبل کے عہد نامہ قدیم (Old Testament) کی پہلی پانچ کتابوں پر مشتمل ہے، جنہیں "اسفارِ خمسہ" کہا جاتا ہے۔ تاہم، اسلامی تعلیمات کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اس کے اصلی متن میں تبدیلیاں کر دیں، جسے "تحریف" کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اصل توراۃ اپنی ابتدائی اور خالص شکل میں موجود نہیں ہے، البتہ اس کے بہت سے اخلاقی سبق آج بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔

عبادت گاہ (Synagogue) میں تورات کے طومار (Scroll) کو خاص احترام کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ ہر ہفتے سبت (Saturday) کے دن عبادت گاہ میں تورات کا ایک حصہ پڑھا جاتا ہے، جسے "پرشاہ" (Parashah) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے سے پورے سال میں پوری تورات کو پڑھ لیا جاتا ہے۔ تورات کے طومار کو انتہائی احتیاط کے ساتھ ہاتھ سے لکھا جاتا ہے اور اسے چھونے سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں۔

اردو دان طبقے کے لیے توریت کو سمجھنے کے لیے متعدد تراجم دستیاب ہیں:

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں عیسائی مشنریوں، بالخصوص سوسائٹیز جیسے "بائبل سوسائٹی آف انڈیا"، نے عبرانی اور یونانی زبانوں سے بائبل کا اردو ترجمہ شروع کیا۔ ولیم کیری اور ہنری مارٹن جیسے اسکالرز نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔

کائنات کی تخلیق، حضرت آدم، حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حالاتِ زندگی پر مبنی ہے۔ However, the Quran also states that some people

Here are some external links where you can access the Torah and the Bible in Urdu:

While both are revered as divine books, the Torah and the Quran have several fundamental differences. The following table summarizes some key distinctions:

یہودی روایات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ سینا پر نازل کی، جب وہ بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نجات دلانے کے تقریباً 50 دن بعد وہاں پہنچے۔ روایت ہے کہ یہ واقعہ یہودی کیلنڈر کے مطابق 2448 میں پیش آیا۔

قدیم الہامی کتاب ہونے کے ناطے، موجودہ تورات کے کئی حصے قرآنی بیانات سے مماثلت رکھتے ہیں:

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Add New Playlist

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
18
0
Join the conversationx
()
x